بنگلورو20؍ستمبر(ایس او نیوز) کاویری مسئلے پر سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے سبب ریاستی حکومت میں سیاسی عدم استحکام پھیل سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے جو پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ عدالت کی طرف سے کاویری سے تملناڈو کو پانی فراہم کرنے کا فیصلہ سنایا گیا تو ریاستی حکومت اس فیصلے پر عمل کرنے سے انکار کردے گی۔ آج عدالت کی طرف سے فیصلے کے بعد اس سلسلے میں ریاستی حکومت کا واضح موقف اپنانے کیلئے کل ایک ہنگامی کابینہ میٹنگ طلب کرلی ہے، جس میں غالباً کاویری سے تملناڈو کو پانی فراہم نہ کرنے کا سخت فیصلہ لیا جاسکتا ہے اور ساتھ ہی اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی حکم عدولی کے نتائج جھیلنے کا بھی اعلان کردیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے ریاست میں پیدا شدہ کاویری بحران کے سلسلے میں آج اے آئی سی سی جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ سے تفصیلی بات چیت کی اور انہیں بتادیا کہ کسی بھی حال میں حکومت تملناڈو کو پانی فراہم نہیں کرسکتی ۔انہوں نے ڈگ وجئے سنگھ کو یہ بھی باور کرایا کہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے جو فیصلہ لیا گیا ہے اسے دیکھتے ہوئے کرناٹک کو کچھ سخت فیصلہ لینا ہوگا۔ ریاستی حکومت کی طرف سے کاویری مسئلے پر اقتدار قربان کرنے کے امکانات پر بھی ڈگ وجئے سنگھ سے سدرامیا نے بات کی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ اعلیٰ کمان نے اس سلسلے میں کل صبح تک فیصلہ لینے کا وقت سدرامیا سے طلب کیا ہے، کل صبح کابینہ میٹنگ سے قبل ڈگ وجئے سنگھ کی طرف سے وزیر اعلیٰ سدرامیا کو اعلیٰ کمان کے موقف سے آگاہ کرایا جائے گا کہ حکومت کو کیا فیصلہ لینا ہے۔وزیراعلیٰ کے قریبی ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ کاویری مسئلے پر حکومت قربان کرنے وزیر اعلیٰ کے فیصلے کو ہوسکتا ہے کہ اعلیٰ کمان کی منظوری مل جائے، تاکہ آنے والے انتخابات میں کانگریس اس کا بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے آج جیسے ہی سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آیا اس فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کل صبح اپنی ہنگامی کابینہ میٹنگ طلب کرلی اور اپنے وزارتی رفقاء کو اقتدار قربان کرنے کیلئے تیار رہنے کی بھی ہدایت دے دی ہے۔